مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما رخص للرجل يدعو به في سجوده؟ باب: آدمی کو سجدے میں جن دعائوں کی رخصت دی گئی ہے
٣١١٩٦ - حدثنا ابن فضيل عن محمد بن (سعد) (١) الأنصاري قال: (حدثنا) (٢) عبد اللَّه بن (يزيد) (٣) بن ربيعة الدمشقي قال: قال أبو الدرداء: أدلجت ذات ليلة (إلى) (٤) المسجد، فلما دخلت مررت على رجل (وهو) (٥) ساجد وهو يقول: اللهم إني خائف مستجير فأجرني من عذابك، وسائل فقير فارزقني من فضلك، لا (بريءٌ) (٦) (من ذنبٍ) (٧) فأعتذر، ولا ذو قوة فانتصر، ولكن مذنب مستغفر، (قال) (٨): فأصبح أبو الدرداء يعلمهن أصحابه (اعجابا) (٩) (بهن) (١٠) (١١).حضرت عبد اللہ بن یزید دمشقی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء نے ارشاد فرمایا : میں ایک رات مسجد میں داخل ہوا، جب میں داخل ہوگیا تو میرا گزر ایک آدمی پر ہوا جو سجدے کی حالت میں یہ دعا کر رہا تھا : اے اللہ ! میں ڈرنے والا، پناہ مانگنے والا ہوں پس آپ مجھے اپنے عذاب سے پناہ دیجیے، اور میں سوالی ، بھیک مانگنے والا ہوں آپ اپنی مہربانی سے مجھے رزق عطا فرما دیجیے، اور میں گناہوں سے بری نہیں ہوں آپ میرا عذر قبول فرما لیجیے، اور نہ ہی میں طاقت والا ہوں آپ ظالموں سے میری حفاظت فرما دیجیے، لیکن میں گناہ کر کے معافی مانگنے والا ہوں پھر حضرت ابو الدرداء یہ دعا اپنے شاگردوں کو سکھلانا شروع کردی پسند آنے کی وجہ سے۔