حدیث نمبر: 31187
٣١١٨٧ - حدثنا يحيى بن آدم عن حمزة الزيات عن أبي إسحاق عن سعيد بن جبير عن ابن عباس عن أبي بن كعب قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا دعا لأحد بدأ (بنفسه) (١)، فذكر ذات يوم موسى فقال: "رحمة اللَّه علينا وعلى موسى، لو كان صبر لقص اللَّه علينا من خبره، ولكن قال: ﴿إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا﴾ " (٢) [الكهف: ٧٦].
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابی ّ بن کعب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی کسی کے لیے دعا کرتے تو اپنی ذات سے ابتدا فرماتے ، پس ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت موسیٰ ذکر کیا اور فرمایا : اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو ہم پر اور موسیٰ پر، اگر وہ صبر فرماتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی کچھ اور باتیں بھی بیان فرماتے ، لیکن انہوں نے فرمایا : اگر میں اس کے بعد تجھ سے کسی چیز کا پوچھوں تو مجھے اپنے ساتھ مت رکھیو۔ تحقیق مل گیا ہے آپ کو میری طرف سے عذر۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ط]: (لنفسه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31187
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢١١٢٦)، وأبو داود (٣٩٨٤)، والترمذي (٣٣٨٥)، والنسائي في التفسير كما في تحفة الأشراف ١/ ٢٥، وفي الكبرى (١١٣١٠)، والحاكم ٢/ ٥٧٤، وابن حبان (٩٨٨)، وابن قانع في معجم الصحابة ١/ ٣، والدوري في القراءات (٧٦)، والطبري في التفسير ١٥/ ٢٨٧، والطحاوي في شرح المشكل (٤٨٩٥)، والخطيب ٦/ ٤٠٠، وأصله عند مسلم (٢٣٨٠)، وبنحوه عند البخاري (١٢٢، ٤٧٢٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31187، ترقيم محمد عوامة 29836)