مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
الرجل يخاف السلطان ما يدعو؟ باب: جو شخص بادشاہ سے ڈرتا ہو وہ کیا دعا کرے؟
٣١١٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مسعر عن أبي بكر بن حفص عن الحسن بن الحسن أن عبد اللَّه بن جعفر زوج ابنته فخلا بها، فقال: إذا نزل بك الموت أو أمر من أمور الدنيا (فظيع) (١) فاستقبليه بأن تقولي: لا إله إلا اللَّه الحليم الكريم، سبحان اللَّه رب العرش العظيم، الحمد للَّه رب العالمين (٢).حضرت حسن بن حسن فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن جعفر نے اپنی بیٹی کی شادی کی تو اس کو تنہائی میں لے جا کر یہ نصیحت فرمائی : جب بھی تجھے موت آئے یا دنیا کے کاموں سے کوئی بُرا کام پیش آجائے، پس تو ان الفاظ کے ساتھ اس کا استقبال کر، کوئی معبود نیں ے ہے سوائے اس اللہ کے جو کہ حکمت والا اور سخی ہے، اللہ جو کہ عرش عظیم کا رب ہے، ہر عیب سے پاک ہے ، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ حضرت حسن بن حسن فرماتے ہیں : پس حجاج کو میری طرف بھیجا گیا، تو میں نے ان کلمات کو ادا کیا : پھر جب میں اس کے سامنے کھڑا ہوا وہ کہنے لگا : تحقیق مجھے تیری طرف بھیجا گیا تھا اور میں چاہ رہا تھا کہ میں تیری گردن اڑا دوں، اور اب تو اور تیرے اہل خانہ میں سے کوئی بھی ہو وہ میرے لیے بہت معزز ہوگیا ہے تو مجھ سے اپنی ضرورت کے مطابق مانگ لے۔