حدیث نمبر: 31137
٣١١٣٧ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن عامر قال: كنت جالسًا مع زياد بن أبي سفيان فأتي برجل يحمل، ما (نشك) (١) في قتله، قال: فرأيته حرك شفتيه بشيء ما ندري ما هو، (قال) (٢): فخلى سبيله فأقبل إليه بعض القوم فقال: لقد جيء بك وما نشك في قتلك، فرأيتك حركت (شفتيك) (٣) بشيء ما ندري ما هو، فخلى سبيلك قال: قلت: اللهم رب إبراهيم، ورب إسحاق، ورب يعقوب، ورب جبريل وميكائيل وإسرافيل، ومنزل التوراة والإنجيل والزبور والقرآن العظيم، ادرأ عني شر زياد.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عامر فرماتے ہیں کہ میں زیاد بن ابی سفیان کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی کو گھسیٹتے ہوئے لایا گیا، ہمیں اس کے قتل ہونے میں کوئی شک نہیں تھا، عامر فرماتے ہیں : میں نے اس کو دیکھا اس کے ہونٹ ہلکی سی حرکت کر رہے ہیں میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، عامر کہتے ہیں پس زیاد نے اس کو آزاد کردیا، پس لوگوں میں ایک آدمی اس کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا : تحقیق تجھے لایا گیا تھا اور ہمیں تیرے قتل ہونے میں کوئی شک نہیں تھا پس میں نے تجھے دیکھا کہ کسی چیز کی وجہ سے تیرے ہونٹ حرکت کر رہے تھے ہم نہیں جانتے کہ وہ کیا ہے ؟ آدمی نے کہا پھر زیاد نے تجھے آزاد کردیا ! وہ شخص کہنے لگا ! میں نے یہ دعا پڑھی تھی : اے اللہ ! ابراہیم کے پالنے والے اور اسحاق کے پالنے والے اور یعقوب کے پالنے والے، اور جبرائیل اور میکائیل اور اسرافیل کے رب، اور تورات، انجیل ، زبور اور قرآن عظما کے نازل کرنے والے ، مجھ سے زیاد کے شر کو دور فرما۔

حواشی
(١) في [ط]: (أشك).
(٢) سقط من: [ط، هـ].
(٣) في [ط]: (شفتك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31137
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31137، ترقيم محمد عوامة 29788)