حدیث نمبر: 31134
٣١١٣٤ - حدثنا أبو معاوية ووكيع عن الأعمش عن ثمامة بن عقبة (المُحَلِّمي) (١) عن الحارث بن سويد قال: قال عبد اللَّه: إذا كان على أحدكم إمام يحاف تَغطوسه وظلمه فليقل: اللهم رب السماوات (السبع) (٢)، ورب العرش العظيم كن لي (جارًا) (٣) من فلان وأحزابه وأشياعه أن (يفرطوا) (٤) علي وأن يطغوا، عز جارك وجل ثناؤك، ولا إله غيرك (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی ایک پر کوئی امام مسلط ہو اور آدمی اس کے غصہ اور ظلم سے ڈرتا ہو پس چاہیے کہ وہ اس طرح کہے : اے اللہ ! ساتوں آسمانوں کے رب اور عرش عظیم کے رب تو میرا مدد گار بن جا فلاں سے اور اس کے لشکروں سے اور اس کے حامیوں سے کہ وہ لوگ مجھ پر زیادتی کریں، یا وہ سرکشی کریں، تیرا پڑوسی عزت والا ہے، اور بڑی ہے تیری تعریف ، اور نہیں ہے کوئی معبود تیرے علاوہ، مگر ابو معاویہ نے اس میں یہ اضافہ فرمایا ہے : اعمش کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ابراہیم کے سامنے ذکر کی، تو انہوں نے بھی حضرت عبد اللہ سے یہی حدیث بیان کی مگر ابراہیم نے اس جملہ کا اضافہ فرمایا : ” جن اور انسان کے شر سے “۔

حواشی
(١) في [ط]: (السحلي).
(٢) سقط من: [أ، ح، هـ].
(٣) سقط من: [جـ، ك].
(٤) في [ك]: (يفطروا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31134
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري في الأدب (٧٠٧)، وابن فضيل في الدعاء (٤٢)، والخطابي في الغريب ٢/ ٢٤٦، وأخرجه مرفوعًا الطبراني (٩٧٩٥) وفي الدعاء (١٠٥٦)، والبيهقي في الدعوات الكبير (٤٢١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31134، ترقيم محمد عوامة 29786)