٣٠٩٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن قابوس بن مخارق عن أبيه قال: بعث علي محمد بن أبي بكر أميرًا على مصر فكتب محمد إلى علي يسأله عن زنادقة منهم من يعبد الشمس والقمر، ومنهم من يعبد غير ذلك، ومنهم من يدعي (الإسلام) (١) فكتب علي و (أمره) (٢) بالزنادقة: أن يقتل من (كان) (٣) يدعي (الإسلام) (٤) ويترك سائرهم يعبدون ما شاءوا (٥).حضرت مخارق فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے محمد بن ابی بکر کو مصر پر امیر بنا کر بھیجا، پس محمد نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر آپ سے زنادقہ کے متعلق پوچھا : ان میں سے کچھ لوگ سورج اور چاند کو پوجتے ہیں، اور ان میں سے کچھ ان کے علاوہ چیزوں کو پوجتے ہیں اور ان میں سے کچھ اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں ان کا کیا حکم ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خط لکھا اور انہیں زنادقہ کے متعلق حکم دیا کہ : وہ ان کو قتل کردیں جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور باقی سب کو چھوڑ دیں وہ جس کی چاہیں عبادت کریں۔