٣٠٩٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الرحمن ابن عبيد عن أبيه قال: كان أناس يأخذون العطاء والرزق ويصلون مع الناس، كانوا يعبدون الأصنام في السر، فأتى بهم علي بن أبي طالب فوضعهم في المسجد، أو قال في السجن، ثم قال: يا أيها الناس ما ترون في قوم كانوا يأخذون (معكم) (١) العطاء والرزق ويعبدون هذه الأصنام؟ قال الناس: أقتلهم، قال: لا، ولكني أصنع بهم كما صنع بأبينا إبراهيم صلوات اللَّه عليه فحرقهم بالنار (٢).حضرت عبدالرحمن بن عبید فرماتے ہیں کہ حضرت عبید نے فرمایا : کچھ لوگ تھے جو سالانہ اور ماہانہ وظیفہ لے تَ تھے اور لوگوں کے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور وہ پوشیدگی میں بتوں کی بھی پوجا کرتے تھے تو ان لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو انہوں نے ان کو مسجد میں یا جیل میں ڈال دیا۔ پھر فرمایا : اے لوگو ! تمہاری کیا رائے ہے ان لوگوں کے بارے میں جو تمہارے ساتھ سالانہ اور ماہانہ وظیفہ لیتے ہیں اور ان بتوں کو بھی پوجتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : آپ ان کو قتل کردو۔ آپ نے فرمایا : نہیں، لیکن میں ان کے ساتھ ایسا معاملہ کروں گا جو ہمارے والد ابراہیم کے ساتھ کیا گیا۔ سو آپ نے ان کو آگ میں جلا ڈالا۔