حدیث نمبر: 30925
٣٠٩٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن محمد بن عبد الرحمن عن أبيه قال: لما قدم على عمر فتح تستر -وتستر من أرض البصرة- سألهم: هل من مغربة، قالوا: رجل من المسلمين لحق بالمشركين فأخذناه، قال: ما صنعتم به؟ قالوا: قتلناه، قال: أفلا أدخلتموه بيتًا، وأغلقتم عليه بابًا، وأطعمتموه كل يوم رغيفا ثم (استتبتموه) (١) ثلاثًا، فإن تاب وإلا قتلتموه، ثم قال: اللهم لم أشهد، ولم آمر (ولم) (٢) أرض إذ بلغني، أو قال: حين بلغني (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر کے پاس تستر کے فتح ہونے کی خبر آئی۔ تستر بصرہ کے ایک علاقہ کا نام ہے۔ تو آپ نے ان لوگوں سے پوچھا : کیا کوئی اور دور دراز کی خبر ہے ؟ ان لوگوں نے کہا : مسلمانوں کا ایک آدمی مشرکین سے مل گیا تھا تو ہم نے اس کو پکڑ لیا۔ آپ نے پوچھا : تم نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ انہوں نے کہا : ہم نے اسے قتل کردیا تھا۔ آپ نے فرمایا : تم نے اسے گھر میں داخل کیوں نہیں کیا اور تم اس پر دروازہ بند کردیتے اور تم اس کو ہر روز ایک چپاتی کھلا دیتے پھر تم اس سے تین مرتبہ توبہ طلب کرتے، پس اگر وہ توبہ کرلیتا تو ٹھیک ورنہ تم اس کو قتل کردیتے ! پھر آپ نے فرمایا : اے اللہ ! میں حاضر نہیں تھا اور نہ میں نے حکم دیا اور نہ میں راضی ہوا جب مجھے خبر پہنچی۔

حواشی
(١) في [ط]: (استبتموه)، وفي [أ، هـ]: (استمتموه).
(٢) بياض في: [جـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30925
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ محمد هو ابن أبي ليلى، سيئ الحفظ.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30925، ترقيم محمد عوامة 29588)