حدیث نمبر: 30920
٣٠٩٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن (عبيد اللَّه) (١) عن نافع عن ابن عمر: أن جارية لحفصة سحرتها ووجدوا سحرها واعترفت (به) (٢) (فأمرت) (٣) عبد الرحمن بن زيد فقتلها، فبلغ ذلك عثمان فأنكره واشتد عليه، فأتاه ⦗٤٣⦘ ابن عمر فأخبره أنها سحرتها (ووجدوا سحرها واعترفت به) (٤)، فكأن عثمان إنما أنكر ذلك لأنها قتلت بغير إذنه (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : حضرت حفصہ کی ایک باندی نے ان پر جادو کردیا اور لوگوں نے اس کو جادو کرتا ہوا پا لیا، اور اس نے اعتراف بھی کرلیا۔ حضرت حفصہ نے حضرت عبدالرحمن بن زید کو حکم دیا تو آپ نے اسے قتل کردیا، جب یہ خبر حضرت عثمان کو پہنچی تو آپ نے اس بات کو پسند نہیں کیا اور اس پر غصہ کا اظہار کیا۔ سو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما آپ کے پاس تشریف لائے اور انہیں خبر دی کہ بیشک اس نے آپ پر جادو کردیا تھا، اور لوگوں نے اس کو جادو کرتا ہوا بھی پایا تھا، اور اس جادوگرنی نے اس کا اعتراف بھی کیا تھا۔ تو گویا حضرت عثمان نے اس بات کو ناپسند کیا اس لیے کہ اسے آپ کی اجازت کے بغیر قتل کیا گیا تھا۔

حواشی
(١) في [جـ]: (عبد اللَّه).
(٢) سقط من: [جـ، ك].
(٣) في [أ، ط، هـ]: (فأمر).
(٤) سقط من: [أ، ب، ط]، وفي [هـ]: (واعترفت به ووجدوا سحرها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30920
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30920، ترقيم محمد عوامة 29583)