حدیث نمبر: 30857
٣٠٨٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: كتب عمر بن عبد العزيز (بكتاب) (١) قرأته: إذا وجد المتاع مع الرجل (المتهم) (٢) فقال: ⦗٢٦⦘ (ابتعته) (٣) فلم (ينفذه) (٤) فأشدده في السجن وثاقًا، ولا تخله بكلام أحد حتى يأتي فيه أمر اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک خط لکھا تھا میں نے اسے پڑھا : جب سامان تہمت زدہ آدمی کے پاس پایا جائے اور وہ کہے : میں نے اسے خریدا ہے، لیکن اسے استعمال نہیں کیا۔ اسے قید خانے میں ڈال دیا جائے گا اور اس کے ساتھ کسی کے کلام کو درست قرار نہ دو ۔ یہاں تک کہ اللہ حقیقت کو آشکارا کر دے۔ میں نے بات کا ذکر حضرت عطاء سے کیا تو انہوں نے اسے عجیب قرار دیا۔

حواشی
(١) في [أ، جـ]: (كتاب).
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٣) في [أ، ب، ط]: (ابتعته).
(٤) في [هـ]: (يقطعه)، وفي [ح]: (ينقذه)، وعند عبد الرزاق (١٨٨٩٨): (صفده)، وسقط من المحلى ١١/ ١٣٢.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30857
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30857، ترقيم محمد عوامة 29526)