مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في إقامة الحد على الرجل في أرض العدو باب: دشمن کے علاقہ میں آدمی پر حد قائم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 30793
٣٠٧٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: غزونا أرض الروم ومعنا حذيفة وعلينا رجل من قريش فشرب الخمر، فأردنا أن نحده فقال حذيفة: أتحدون أميركم وقد دنوتم من عدوكم فيطمعون فيكم؟ (فقال) (١): (لأشربنها) (٢) وإن كانت محرمة، ولأشربن علي رغم من (رغم) (٣) (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ ہم رومیوں سے جنگ کر رہے تھے۔ ہمارے ساتھ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ایک قریشی ہمارا امیر تھا۔ اس نے شراب پی ہم نے اس پر حد جاری کرنا چاہی تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا تم اپنے امیر پر حد قائم کرو گے حالانکہ تم اپنے دشمن کے قریب ہو۔ اس طرح تو وہ تم پر حاوی ہوجائے گا۔ اس پر وہ امیر کہنے لگا کہ میں شراب پیوں گا ضراہ وہ حرام ہے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (قال).
(٢) في [ط]: (لا تشربنها)، وفي [ب، ح]: (ولأشربن).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (أرغمها)، وفي [ز]: (رغمها).