مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
من قال: إذا فجرت -وهي حامل- انتظر بها حتى تضع، ثم ترجم باب: جو یوں کہے: جب عورت نے بدکاری کی درانحالیکہ وہ حاملہ تھی تو انتظار کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ حمل وضع کردے پھر اسے سنگسار کردیا جائے گا
حدیث نمبر: 30734
٣٠٧٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن الحسن بن صالح عن سماك قال: حدثني (ذهل) (١) بن كعب قال: أراد عمر أن يرجم المرأة التي فجرت وهي حامل، فقال له معاذ: إذا تظلمها أرأيت الذي في بطنها ما ذنبه؟ علام تقتل نفسين بنفس واحدة؟ فتركها حتى وضعت حملها، ثم رجمها (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ذھل بن کعب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے اس عورت کو سنگسار کرنے کا ارادہ کیا جس نے بدکاری کی تھی اور وہ حاملہ تھی حضرت معاذ نے آپ سے فرمایا : تب تو آپ اس پر ظلم کرو گے آپ کی کیا رائے ہے اس جان کے بارے میں جو اس کے پیٹ میں موجود ہے۔ اس کا کیا گناہ ہے ؟ کس وجہ سے آپ ایک جان کے بدلے دو جانوں کو قتل کرو گے ؟ سو آپ نے اس عورت کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس نے اپنا حمل وضع کیا پھر آپ نے اسے سنگسار کیا۔
حواشی
(١) في [ط، هـ]: (فضل).
(٢) مجهول؛ لجهالة ذهل بن كعب.