مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
من قال: إذا فجرت -وهي حامل- انتظر بها حتى تضع، ثم ترجم باب: جو یوں کہے: جب عورت نے بدکاری کی درانحالیکہ وہ حاملہ تھی تو انتظار کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ حمل وضع کردے پھر اسے سنگسار کردیا جائے گا
حدیث نمبر: 30730
٣٠٧٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الأجلح عن الشعبي قال: أتى علي بشراحة امرأة من همذان وهي حبلى من زنا، فأمر بها علي فحبست في السجن، فلما وضعت ما في بطنها أخرجها يوم الخميس فضربها مائة سوط ورجمها يوم الجمعة (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس شراحہ قبیلہ ھمدان کی ایک عورت لائی گئی درآنحالیکہ وہ زنا سے حاملہ تھی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کو جیل میں قید کردیا گیا پس جب اس نے اپنے پیٹ میں موجود حمل کو وضع کردیا تو اس کو جمعرات کے دن نکالا اور آپ نے اسے سو کو ڑے مارے اور اس کو جمعہ کے دن سنگسار کردیا۔