مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
من قال: إذا فجرت -وهي حامل- انتظر بها حتى تضع، ثم ترجم باب: جو یوں کہے: جب عورت نے بدکاری کی درانحالیکہ وہ حاملہ تھی تو انتظار کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ حمل وضع کردے پھر اسے سنگسار کردیا جائے گا
٣٠٧٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا أبان العطار قال: حدثني يحيى بن أبي كثير عن أبي قلابة عن أبي المهلب عن عمران بن حصين أن امرأة من جهينة أتت النبي ﷺ (١) فقالت: إني أصبت حدًا فأقمه علي، وهي حامل، فأمر بها أن يُحسن إليها حتى تضع، فلما (أن) (٢) وضعت جيء بها إلى رسول اللَّه ﷺ فأمر بها (فشكت) (٣) (عليها) (٤) ثيابها، ثم رجمها وصلى عليها فقال عمر: ⦗٥٠٦⦘ يا (نبي) (٥) اللَّه أتصلي عليها (وقد زنت؟) (٦) (فقال) (٧): "لقد تابت توبة لو قسمت بين سبعين من أهل المدينة لوسعتهم، وهل وجدت أفضلَ من أن جادت بنفسها" (٨).حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ قبیلہ جھینہ کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی بیشک مجھ پر حد لازم ہوگئی سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو مجھ پر قائم فرمادیں اس حال میں کہ وہ حاملہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے یہاں تک کہ وہ حمل وضع کردے پس جب اس نے حمل وضع کردیا تو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے اس پر کپڑے ڈال دیے گئے پھر اس کو سنگسار کیا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی حضرت عمر نے فرمایا : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے حالانکہ اس نے زنا کیا ہے ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : البتہ تحقیق اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اس کی توبہ مدینہ والوں میں سے ستر لوگوں کے درمیان تقسیم کردیا جائے تو وہ ان کو گھیر لے کیا تم کسی کو افضل پاؤ گے اس سے جس نے اپنی جان دیدی ہو۔