حدیث نمبر: 30728
٣٠٧٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا بشير بن المهاجر قال: حدثنا عبد اللَّه بن بريدة عن أبيه قال: جاءت الغامدية فقالت: يا (نبي) (١) اللَّه إني قد زنيت وإني أريد أن تطهرني، وأنه ردها، فلما كان الغد قالت: يا نبي اللَّه (لم) (٢) تردني، (فلعلك) (٣) (٤) أن (ترددني) (٥) كما رددت ماعز بن مالك، فواللَّه إني ⦗٥٠٥⦘ لحبلى، قال: "أما لا، فاذهبي حتى تلدي"، فلما ولدت أتته بالصبي في خرقة، قالت: هذا قد ولدته، قال: "اذهبي فأرضعيه حتى تفطميه"، (فلما فطمته) (٦) أتته بالصبي وفي يده كسرة خبز فقالت: هذا، يا نبي اللَّه قد فطمته، وقد أكل الطعام، فدفع الصبي إلى رجل من المسلمين، ثم أمر بها (فحفر لها) (٧) إلى صدرها، وأمر الناس فرجموا، فأقبل خالد بن الوليد بحجر (فرمى) (٨) رأسها (فانتضخ الدم) (٩) على وجه خالد بن الوليد، فسمع نبي اللَّه ﷺ (١٠) سبه إياها، فقال: "مهلًا يا خالد ابن الوليد، فوالذي نفسي بيده لقد تابت توبة لو تابها صاحب مكس لغفر له"، ثم أمر بها فصلى عليها ودفنت (١١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ ایک غامدیہ عورت آئی اور کہنے لگی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں نے زنا کیا ہے اور بیشک میں چاہتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے پاک کردیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو واپس لوٹا دیا پس جب اگلا دن ہوا اس نے کہا ! یا نبی اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کیوں لوٹا دیا جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماعز بن مالک کو واپس لوٹا دیا تھا ! اللہ کی قسم ! بیشک میں حاملہ ہوں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بالکل نہیں، تم جاؤ یہاں تک کہ تم بچہ پیدا کردو، پس جب اس نے بچہ جنا تو وہ بچہ کو پھٹے پرانے کپڑے میں لے کر آئی اور کہنے لگی : میں نے اس کو جن دیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اس کو دودھ پلاؤ یہاں تک کہ اس کا دودھ چھڑا دو پس جب اس عورت نے اس کا دودھ چھڑا دیا تو وہ اس بچہ کو لے کر آئی اس حال میں کہ اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا۔ اس عورت نے کہا ! اے اللہ کے نبی ! تحقیق میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے اور تحقیق اس نے کھانا کھایا ہے سو اس بچہ کو مسلمانوں میں سے ایک آدمی کے حوالہ کردیا گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے اس کے سینہ تک گھڑا کھودا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا تو لوگوں نے اسے پتھر مارے حضرت خالد بن ولید ایک پتھر لائے اور اس کے سر میں مارا تو اس کے خون کی چھینٹیں حضرت خالد بن ولید کے چہرے پر پڑیں تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس عورت کو برا بھلا کہتے ہوئے سنا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ٹھہرواے خالد بن ولید ! پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تحقیق اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر چنگی وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اس کی مغفرت کردی جاتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے اس کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور اس کو دفن کردیا گیا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (رسول).
(٢) في [ز]: (كلم).
(٣) في [ك]: (فقلت).
(٤) في [هـ]: زيادة (تريد).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (تردني).
(٦) سقط من: [ك].
(٧) في [ط]: (فحفر لي).
(٨) في [ط]: (فرماها).
(٩) في [جـ]: (فكما نضحا).
(١٠) سقط من: [أ، ط، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30728
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٦٩٥)، وأحمد (٢٢٩٤٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30728، ترقيم محمد عوامة 29405)