مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في الزاني كم مرة (يرد) وما يصنع به بعد إقراره؟ باب: زانی کے بیان میں: اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟
٣٠٦٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب أن ماعز بن مالك أتى أبا بكر فأخبره أنه زنى، فقال له أبو بكر: (ذكرت هذا لأحد غيري؟ قال: لا، قال أبو بكر) (١): استتر يستر اللَّه، وتب إلى اللَّه فإن الناس يغيرون، ولا يعيرون، واللَّه يقبل التوبة عن عباده فلم تقر نفسه حتى أتى عمر فذكر مثل ما ذكر لأبي بكر، فقال له عمر مثل ما قال له أبو بكر، فلم تقر نفسه حتى أتى رسول اللَّه ﷺ فأخبره أنه قد زنى، فأعرض عنه حتى قال (له) (٢) ذلك مرارًا، فلما أكثر بعث إلى قومه فقال لهم: "هل اشتكى؟ أبه جنة؟ " فقالوا: لا واللَّه يا رسول اللَّه إنه (صحيح) (٣) قال: "أبكر أم ثيب؟ " (قالوا: ⦗٤٩٥⦘ بل ثيب) (٤)، فأمر به فرجم (٥).حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور انہیں اطلاع دی کہ میں نے زنا کیا ہے تو حضرت ابوبکر نے ان سے فرمایا : کیا تم نے اس بات کو میرے علاوہ کسی سے ذکر کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں حضرت ابوبکر نے ان سے فرمایا : تم اللہ کی ستر پوشی کی وجہ سے اپنا عیب چھپاؤ اور اللہ سے توبہ کرو بیشک لوگ عار دلائے جاتے ہیں لیکن غیرت نہیں کھاتے کریں گے اور اللہ رب العزت اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ پس ان کے نفس کو قرار نہیں آیا یہاں تک کہ وہ حضرت عمر کے سامنے ذکر کی تھی حضرت عمر نے بھی ان کو وہی جواب دیا جو حضرت ابوبکر نے دیا تھا۔ ان کے نفس کو قرار نہیں آیا یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی کہ بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اعراض کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کہا جب بہت زیادہ ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی قوم کی طرف ایک قاصد بھیجا اور ان سے کہا : کیا یہ بیمار ہے ؟ یا اس کو جنون لاحق ہے ؟ انہوں نے عرض کی : نہیں، اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! بیشک یہ بالکل صحیح ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ! غیر شادی شدہ ہے یا شادی شدہ ؟ انہوں نے کہا : بلکہ شادی شدہ ہے ۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے ان کو سنگسار کردیا گیا۔