حدیث نمبر: 30692
٣٠٦٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عبيد اللَّه عن ابن عباس قال: قال عمر: قد خشيت أن يطول بالناس زمان حتى يقول القائل: ما نجد الرجم في كتاب اللَّه فيضلوا بترك فريضة أنزلها اللَّه، ألا وإن الرجم حق إذا أحصن (الرجل) (١) (أو) (٢) قامت البينة أو كان حمل أو اعتراف وقد قرأتها: ⦗٤٩٤⦘ "الشيخ والشيخة (إذا زنيا) (٣) فارجموهما البتة"، رجم رسول اللَّه ﷺ، ورجمنا بعده (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : مجھے ڈر ہے کہ لوگوں پر لمبازمانہ گزرے گا یہاں تک کہ کہنے والا کہے گا : ہم تو رجم کے حکم کو کتاب اللہ میں نہیں پاتے ! سو وہ گمراہ ہوں گے ایک فریضہ کو چھوڑنے کی وجہ سے جس کا حکم اللہ نے نازل کیا ہے خبردار ! رجم کا حکم برحق ہے جب آدمی شادی شدہ ہو یا بینہ قائم ہوجائے یا حاملہ ہو یا اعتراف کیا ہو اور تحقیق میں نے اس کی تلاوت کی ہے ترجمہ :۔ شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت جب دونوں زنا کریں تو تم ان کو لازمی طور پر سنگسار کرو۔ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ہم نے سنگسار کیا ہے حضرت سفیان سے پوچھا گیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنگسار کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں۔

حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [هـ]: (و).
(٣) سقطت من: [جـ، ك].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30692
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨٣٥)، ومسلم (١٦٩١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30692، ترقيم محمد عوامة 29371)