مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في الزاني كم مرة (يرد) وما يصنع به بعد إقراره؟ باب: زانی کے بیان میں: اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟
٣٠٦٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام بن سعد قال: حدثني يزيد ابن نعيم بن هزال عن أبيه قال: كان ماعز بن مالك في حجر أبي فأصاب جارية ⦗٤٩٠⦘ من الحي، فقال له أبي: أئت رسول اللَّه ﷺ فأخبره بما صنعت يستغفر لك، وإنما يريد بذلك ليجعل له محرجًا، فأتاه فقال: يا رسول اللَّه، إني قد زنيت، فأقم علي كتاب اللَّه (فأعرض عنه، ثم أتاه، حتى ذكر أربع مرات، ثم أتاه الرابعة فقال: يا رسول اللَّه إني قد زنيت فأقم علي كتاب اللَّه) (١) فقال: رسول اللَّه ﷺ (٢): "أليس قلتها أربع مرات فبمن؟ " قال: بفلانة، قال: "هل ضاجعتها؟ "، قال: نعم، قال: "باشرتها؟ " قال: نعم، قال: "هل جامعتها؟ " قال: نعم، قال: فأمر به ليرجم، فأخرج إلى الحرة فلما وجد مس الحجارة خرج يشتد فلقيه عبد اللَّه بن أنيس وقد أعجز أصحابه فانتزع له بوظيف بعير فرماه به فقتله، ثم أتى النبي ﷺ (٣) فذكر ذلك له فقال: "هلا تركتموه لعله يتوب، فيتوب اللَّه عليه" (٤).حضرت نعیم بن ھزال فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک میرے والد کی پرورش میں تھے انہوں نے قبیلہ کی ایک باندی سے زنا کرلیا تو میرے والد نے ان سے کہا : تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور جو تم نے کیا ہے اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلاؤ وہ تمہارے لیے استغفار کریں گے۔ اور میرے والد نے اس سے یہ ارادہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لیے کوئی راستہ نکالیں گے۔ پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر کتاب اللہ کا حکم قائم فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے یہاں تک کہ راوی نے چار مرتبہ کا ذکر کیا۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چوتھی بار آئے اور کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر کتا باللہ کا حکم قائم فرما دیں اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم نے یہ بات چار مرتبہ نہیں کہی ؟ پس کس عورت سے کیا ؟ انہوں نے کہا : فلاں عورت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے اس سے ہمبستری کی ؟ انہوں نے کہا، جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : کیا تم نے اس سے وطی کی ؟ انہوں نے کہا، جی ہاں، ٓپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر پوچھا ! کیا تم نے اس سے جماع کیا ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں، راوی کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اس کو سنگسار کیا گیا اور اسے حرہ کی زمین کی طرف لے جایا گیا جب انہوں نے پتھروں کی سختی محسوس کی وہ کراہتے ہوئے تکلیف سے نکلنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن انیس اس سے ملے اور تحقیق اس کو مارنے والے ساتھی عاجز آگئے تھے انہوں نے اپنے اونٹ کی پنڈلی کا پتلا حصہ اکھیڑا اور ان کو اس سے مار کر انہیں قتل کردیا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس بات کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا شاید کہ وہ توبہ کرلیتا اور اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتے ؟