مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في الزاني كم مرة (يرد) وما يصنع به بعد إقراره؟ باب: زانی کے بیان میں: اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟
٣٠٦٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن المجالد عن الشعبي عن جابر قال: جاء ماعز بن مالك إلى النبي ﷺ (١) فقال: إنه قد زنى فقال: "أما لهذا أحد" فرده، ثم جاء ثلاث (مرار) (٢) فقال: " (أما) (٣) لهذا أحد" فرده، فلما كانت الرابعة قال: "ارجموه" (٤)، فرماه ورميناه، وفر واتبعناه، قال عامر: فقال لي جابر: (فهاهنا) (٥) قتلناه (٦).حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا : بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ نے پوچھا کیا اس کا کوئی گواہ ہے ؟ سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں واپس لوٹا دیا پھر وہ تین مرتبہ آئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا اس کا کوئی گواہ ہے ؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو واپس لوٹا دیا جب وہ چوتھی مرتبہ آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اس کو سنگسارکر دو سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور ہم نے اسے پتھر مارے اور وہ بھاگنے لگے تو ہم نے ان کا پیچھا کیا۔ حضرت عامر نے فرمایا : حضرت جابر نے مجھ سے فرمایا : ہم نے یہاں ان کو مارا تھا۔