حدیث نمبر: 30679
٣٠٦٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الأسود بن شيبان عن أبي نوفل ابن أبي عقرب قال: جاءت امرأة إلى عمر بن الخطاب فقالت: يا أمير المؤمنين، إني امرأة كما ترى، وغيري من النساء أجمل مني، ولي عبد قد رضيت دينه وأمانته، (فأردت) (١) أن أتزوجه، فدعا بالغلام فضربهما ضربًا مبرحًا، وأمر بالعبد فبيع في أرض غربة (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو نوفل بن ابی عقرب فرماتے ہیں کہ ایک عورت حضرت عمر بن خطاب کے پاس آکر کہنے لگی اے امیر المومنین ! بیشک میں ایک عام عورت ہوں جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں جبکہ دوسری عورتیں مجھ سے زیادہ خوبصورت ہیں اور میرا ایک غلام ہے تحقیق میں اس کے دین اور اس کی ایمان داری سے راضی ہوں اور میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں اس پر آپ نے اس غلام کو بلایا اور ان دونوں کو سخت مار لگائی اور آپ نے غلام کے بارے میں حکم دیا تو اس کو اجنبی دور علاقہ میں فروخت کردیا گیا۔
حواشی
(١) في [ط]: (فأرادت).
(٢) منقطع؛ أبو نفل لم يدرك عمر.