مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في الخلسة فيها قطع أم لا؟ باب: جھپٹی ہوئی چیز کے بیان میں کیا اس میں کاٹنے کی سزا ہوگی یا نہیں؟
حدیث نمبر: 30574
٣٠٥٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام أن عديًا رفع إليه رجل اختلس خلسة، فقال أياس: عليه القطع، وقال الحسن: لا قطع عليه، فكتب عدي إلى عمر بن عبد العزيز فقال: ليس عليه قطع، قال: وكانت العرب (تسميها) (١) عدوة الظهيرة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت عدی کے پاس ایک معاملہ پیش کیا گیا کہ ایک آدمی نے کوئی چیز جھپٹ لی تھی۔ حضرت ایاس نے فرمایا : اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا جاری ہوگی اور حسن بصری نے ارشاد فرمایا : اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزاجاری نہیں ہوگی تو حضرت عدی نے اس بارے میں حضرت عمربن عبدالعزیز کو خط لکھا تو آپ نے فرمایا : اس پر ہاتھ کاٹنے سزا جاری نہیں ہوگی اس لیے کہ اہل عرب اسے دن کی چوری پکارتے تھے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (تسمها).