مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في (رجل) يوجد منه ريح الخمر، ما عليه؟ باب: اس آدمی کے بیان میں جس کے منہ سے شراب کی خوشبو محسوس ہو تو اس پر کیا سزا جاری ہوگی؟
حدیث نمبر: 30537
٣٠٥٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: قرأ عبد اللَّه سورة يوسف (بحمص) (١)، فقال رجل: ما هكذا أنزلت، فدنا منه عبد اللَّه فوجد منه ريح الخمر فقال له: تكذب بالحق وتشرب الرجس، واللَّه (لهكذا) (٢) أقرأنيها رسول اللَّه ﷺ، لا أدعك حتى (أحدك) (٣)، فجلده الحد (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے حمص میں سورة یوسف کی تلاوت فرمائی اس پر ایک آدمی کہنے لگا یہ آیت ایسے نازل نہیں ہوئی ، پس حضرت عبداللہ بن مسعود اس کے قریب ہوئے تو آپ نے اس سے شراب کی بو پائی، آپ نے اس سے فرمایا : تو حق بات کی تکذیب کرتا ہے اور ناپاک چیز پیتا ہے ! اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ آیت اسی طرح پڑھائی ہے میں تجھے نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ میں تجھ پر حد لگاؤں گا پھر آپ نے اس پر حد لگائی۔
حواشی
(١) في [ب]: (بمحمص)، وفي [ط]: (عن).
(٢) في [هـ]: (لهو كما).
(٣) في [ك]: (أجلدك).