مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في (الرجل) يؤتى به (فيقال): أسرقت؟ قتل: لا باب: اس چور کے بیان میں جس کو پکڑ کر لایا گیا اور اس سے یوں کہا گیا: کیا تو نے چوری کی ہے؟ کہہ دے: نہیں
حدیث نمبر: 30484
٣٠٤٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن عكرمة ابن خالد قال: أتى عمر بسارق قد اعترف، فقال عمر: (إني) (١) لأرى يد رجل ما هي بيد سارق، قال الرجل: واللَّه ما أنا بسارق، فأرسله عمر ولم يقطعه (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ بن خالد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے چوری کا اعتراف کیا تھا اس پر حضرت عمر نے فرمایا : بیشک میری رائے یہ ہے کہ اس آدمی کا ہاتھ یہ چور کا ہاتھ نہیں ہے، اس آدمی نے کہا : اللہ کی قسم : میں چور نہیں ہوں، سو حضرت عمر نے اسے چھوڑ دیا اور اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
حواشی
(١) سقط من: [ك].
(٢) منقطع؛ عكرمة بن خالد لم يدرك عمر.