مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في (الرجل) يؤتى به (فيقال): أسرقت؟ قتل: لا باب: اس چور کے بیان میں جس کو پکڑ کر لایا گیا اور اس سے یوں کہا گیا: کیا تو نے چوری کی ہے؟ کہہ دے: نہیں
حدیث نمبر: 30482
٣٠٤٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن يزيد بن خصيفة عن محمد ابن عبد الرحمن بن ثوبان أن رجلًا سرق شملة فأتي به النبي ﷺ فقالوا: يا رسول ⦗٤٤٥⦘ اللَّه (١) هذا (سرق) (٢) شملة، فقال: "ما أخاله سرق" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان فرماتے ہیں کہ ایک آدی نے چادر چوری کی تو اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا لوگ کہنے لگے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس نے چادر چوری کی ہے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرا گمان نہیں ہے کہ اس نے چوری کی ہو۔
حواشی
(١) في [ك] زيادة: ﷺ.
(٢) في [ط، م]: (أسرق).