حدیث نمبر: 30476
٣٠٤٧٦ - حدثنا أبو بكر (قال: حدثنا يزيد بن هارون) (١) قال: (حدثنا) (٢) سليم ابن حيان قال: حدثنا سعيد بن ميناء قال: كان عبد اللَّه بن الزبير يلي صدقة الزبير، وكانت في بيت لا (يدخله) (٣) أحد غيره وغير جارية له، ففقد شيئًا من المال، فقال للجارية: ما كان يدخل هذا البيت (غيري و) (٤) غيرك، فمن أخذ هذا المال؟ فأقرت الجارية، فقال لي: يا سعيد انطلق بها فاقطع يدها، فإن المال لو كان لي لم يكن عليها قطع (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعید بن مینائ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر حضرت زبیر کے صدقہ کا انتظام و انصرام سنبھالتے تھے اور وہ صدقہ کا مال اس گھر میں ہوتا تھا جس میں کوئی شخص حضرت عبداللہ بن زبیر اور ان کی باندی کے علاوہ داخل نہیں ہوسکتا تھا پس اس میں سے کچھ مال گم ہوگیا۔ تو آپ نے باندی سے کہا : اس گھر میں میرے اور تیرے علاوہ کوئی داخل نہیں ہوتا تو کس نے یہ مال لیا ہے ؟ باندی نے اقرار کرلیا۔ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا : اے سعید اس کو لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ د و اس لیے کہ اگر میرا ہوتا تو پھر اس کا ہاتھ نہ کٹتا۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٢) في [جـ، ك]: (أخبرنا).
(٣) في [ط]: (لا يدخل).
(٤) في [جـ] ورد: (بعد غيرك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30476
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30476، ترقيم محمد عوامة 29164)