مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في (العبد) يسرق من مولاه، ما عليه؟ باب: اس غلام کے بیان میں جو اپنے آقا کے مال میں سے چوری کرلے، اس پر کیا سزا جاری ہوگی؟
٣٠٤٧٦ - حدثنا أبو بكر (قال: حدثنا يزيد بن هارون) (١) قال: (حدثنا) (٢) سليم ابن حيان قال: حدثنا سعيد بن ميناء قال: كان عبد اللَّه بن الزبير يلي صدقة الزبير، وكانت في بيت لا (يدخله) (٣) أحد غيره وغير جارية له، ففقد شيئًا من المال، فقال للجارية: ما كان يدخل هذا البيت (غيري و) (٤) غيرك، فمن أخذ هذا المال؟ فأقرت الجارية، فقال لي: يا سعيد انطلق بها فاقطع يدها، فإن المال لو كان لي لم يكن عليها قطع (٥).حضرت سعید بن مینائ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر حضرت زبیر کے صدقہ کا انتظام و انصرام سنبھالتے تھے اور وہ صدقہ کا مال اس گھر میں ہوتا تھا جس میں کوئی شخص حضرت عبداللہ بن زبیر اور ان کی باندی کے علاوہ داخل نہیں ہوسکتا تھا پس اس میں سے کچھ مال گم ہوگیا۔ تو آپ نے باندی سے کہا : اس گھر میں میرے اور تیرے علاوہ کوئی داخل نہیں ہوتا تو کس نے یہ مال لیا ہے ؟ باندی نے اقرار کرلیا۔ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا : اے سعید اس کو لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ د و اس لیے کہ اگر میرا ہوتا تو پھر اس کا ہاتھ نہ کٹتا۔