مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
ما (يوجب) على الرجل أن يقام عليه الحد باب: کس حالت میں واجب ہوجاتا ہے کہ آدمی پر حد قائم کردی جائے؟
حدیث نمبر: 30304
٣٠٣٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مبارك عن معمر قال: حدثني (عبد الحكيم) (١) بن (فلان) (٢) بن يعلى عن أبيه أن يعلي بن أمية قال لعمر بن الخطاب أو كتب إليه: إنا نؤتى (بقوم) (٣) قد شربوا الشراب فعلى من نقيم الحد؟ (فقال) (٤): استقرئه القرآن، وألق (رداءه) (٥) بين أردية، فإن لم يقرأ القرآن ولم يعرف رداءه فأقم عليه الحد (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن امیہ نے حضرت عمر بن خطاب سے فرمایا یا ان کو خط لکھا : بیشک ہمارے پاس ایسے لوگ لائے گئے ہیں جنہوں نے شراب پی ہے، پس ہم کس حالت میں ان پر حد قائم کریں ؟ حضرت عمر نے فرمایا : ان سے قرآن پڑھواؤ اور ان کی چادر بہت سی چادروں کے درمیان ڈال دو پس اگر وہ قرآن نہ پڑھ سکیں اور اپنی چادر کو نہ پہچان سکیں تو ان پر حد قائم کردو۔
حواشی
(١) في [ك]: (عبد الكريم)، وفي [أ، ط، هـ]: (عبد الحليم).
(٢) في [ط، هـ]: (قلاب).
(٣) في [أ، ب، ط، م]: (يقوم).
(٤) في [جـ، م]: (قال).
(٥) في [أ]: (داه).
(٦) مجهول؛ لجهالة عبد الحكيم وأبيه.