مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في حد الخمر: كم هو؟ وكم يضرب شاربه؟ باب: شراب کی سزا کے بیان میں کہ وہ کتنی ہے؟ اور اس کے پینے والے کو کتنے کوڑے مارے جائیں گے؟
حدیث نمبر: 30300
٣٠٣٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: حدثنا محمد بن عمرو قال: حدثنا أبو (سلمة) (٢) ومحمد بن إبراهيم (و) (٣) الزهري عن عبد الرحمن ابن الأزهر قال: أتي النبي ﷺ (٤) بشارب يوم حنين، فقال رسول اللَّه ﷺ للناس: "قوموا إليه" (فقام إليه الناس) (٥) فضربوه بنعالهم (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن ازھر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس غزوہ حنین کے دن ایک شرابی لایا گیا سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا : تم اس کی طرف اٹھو۔ پس لو گ اس کی طرف گئے اور انہوں نے اپنی جوتیوں سے اسے مارا۔
حواشی
(١) في [ب]: (بشير).
(٢) في [أ، جـ، ط، ك، م، هـ]: (أسامة).
(٣) في [س، ط]: (عن).
(٤) في [أ، ب، ك، م]: ﵇.
(٥) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٦) منقطع؛ الزهري لم يدرك عبد الرحمن بن الأزهر، أخرجه أحمد (١٦٨٠٩)، والنسائي في الكبرى (٥٢٨٤)، والحاكم ٤/ ٢٧٤، وابن أبي عاصم في الآحاد (٦٣٨)، وأبو داود (٤٤٨٨)، والبيهقي ٨/ ٣٢٠، والطحاوي ٣/ ١٥٦.