حدیث نمبر: 30299
٣٠٢٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن عن علي قال: شرب قوم من أهل الشام الخمر وعليهم يزيد بن أبي سفيان، وقالوا: هي لنا حلال وتأولوا هذه الآية: ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا﴾ [المائدة: ٩٣]، قال: وكتب فيهم إلى عمر فكتب أن ⦗٤٠٥⦘ ابعث بهم إلي قبل أن يفسدوا من قبلك، فلما قدموا على عمر استشار فيهم الناس، فقالوا: يا أمير المؤمنين نرى أنهم قد كذبوا على اللَّه، وشرعوا في دينهم ما لم يأذن به اللَّه، فاضرب رقابهم، وعلي ساكت فقال: ما تقول يا أبا الحسن فيهم؟ قال: أرى أن تستتيبهم، فإن تابوا جلدتهم ثمانين (ثمانين) (١) (لشربهم) (٢) الخمر، وإن لم يتوبوا ضربت (أعناقهم، فإنهم) (٣) قد كذبوا على اللَّه وشرعوا في دينهم ما لم يأذن به اللَّه، فاستتابهم فتابوا فضربهم ثمانين، ثمانين (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اہل شام میں سے چند لوگوں نے شراب پی۔ اس وقت ان پر یزید بن ابو سفیان امیر تھے اور ا ن لوگوں نے کہا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایمان اور اعمال صالحہ والوں پر کوئی چیز کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ یزید بن ابی سفیان نے اس بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ قبل اس کے کہ یہ لوگ فساد مچائیں انہیں میرے پاس بھجوا دو ۔ جب وہ آئے تو حضرت عمر نے ان کے بارے میں مشورہ کیا۔ آپ سے کہا گیا اے امیرالمومنین ! ان لوگوں نے اللہ کے بارے میں جھوٹ بولا اور شریعت میں شریعت کے خلاف بات کی۔ لہٰذا انہیں قتل کروا دیں۔ اس دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ خاموش رہے۔ حضرت عمر نے پوچھا اے ابوالحسن ! آپ کیا کہتے ہیں ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر وہ توبہ کرتے ہیں تو انہیں اسی کوڑے لگائیں اگر توبہ نہ کریں تو قتل کردیں۔ انہوں نے اللہ پر جھوٹ گھڑا ہے۔ حضرت عمر نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے توبہ کا اظہار کیا اس پر انہیں صرف اسی کوڑوں کی سزا دی گئی۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) في [هـ]: (لشرب).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (رقابهم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30299
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عطاء اختلط.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30299، ترقيم محمد عوامة 29000)