مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في الرجل يعرض للرجل بالفرى: ما في ذلك؟ باب: اس آدمی کے بیان میں جو آدمی کے بارے میں جھوٹی تہمت ظاہر کرے اس میں کیا چیز لازم ہوگی؟
حدیث نمبر: 30256
٣٠٢٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن محمد بن إسحاق قال: سئل القاسم عن رجل يقول للرجل: يا ابن الخياط، (أو) (١) يا ابن الحجام، أو يا ابن ⦗٣٩٦⦘ الجزار، وليس أبوه كذلك، فقال القاسم: قد (أدركنا وما) (٢) تقام الحدود إلا في (القذف) (٣) البين، أو في النفي البين.مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم سے ایک آدمی کے متعلق پوچھا گیا جو کسی آدمی کو یوں کہہ دے : اے درزی کے بیٹے، یا اے پچھنے لگانے والے کے بیٹے، یا اے قصائی کے بیٹے اور حالانکہ اس کا باپ ایسا نہیں ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ اس پر حضر ت قاسم نے فرمایا : تحقیق ہم نے یوں پایا تھا کہ حدود قائم نہیں جاتی تھیں مگر واضح تہمت لگانے کی صورت میں یا واضح طو ر پر نفی کرنے کی صورت میں۔
حواشی
(١) في [ب]: (و).
(٢) في [أ]: (أدركناه مما).
(٣) في [ك]: (النفي).