مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في القاذف: تنزع عنه ثيابه أو يضرب فيها؟ باب: تہمت لگانے والے کے بیان میں کیا اس کے کپڑے اتا رلیے جائیں گے یا ان میں ہی کوڑے مارے جائیں گے؟
حدیث نمبر: 30205
٣٠٢٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن إسماعيل عن الحسن قال: إذا قذف الرجل في الشتاء لم يلبس ثياب (الصيف) (١)، ولكن يضرب في ثيابه التي قذف فيها، (و) (٢) إذا قذف في الصيف لم يلبس ثياب الشتاء، يضرب فيما قذف فيه.مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : جب آدمی سردی میں کسی پر تہمت لگائے تو اسے گرمیوں کے کپڑے نہیں پہنائے جائیں گے لیکن اسے ان ہی کپڑوں میں کوڑے مارے جائیں جن میں اس نے تہمت لگائی تھی اور جب وہ گرمی میں تہمت لگائے تو اسے سردیوں کے کپڑے نہیں پہنائے جائیں گے اسے ان ہی کپڑوں میں کوڑے مارے جائیں گے جن میں اس نے تہمت لگائی تھی۔
حواشی
(١) في [ط]: (الضيف).
(٢) سقطت من: [هـ] وفي [ك]: زيادة (حدثنا أبو بكر).