حدیث نمبر: 30186
٣٠١٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا بن أبي ذئب عن الزهري عن طارق الشامي (١) أنه أتي برجل في سوقة فضربه، (فأقر) (٢) فبعث ⦗٣٨٢⦘ إلى ابن عمر (يسأله) (٣) عن ذلك فقال له ابن عمر: لا تقطعه فإنه إنما أقر بعد ضربك إياه (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زھری فرماتے ہیں کہ طارق شامی کے پاس ایک آدمی لایا گیا جسے چوری کے معاملہ میں پکڑا گیا تھا پس آپ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس کسی کو بھیجا کہ ان سے اس بارے میں پوچھو ؟ اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا : تم اس کا ہاتھ مت کاٹو اس لئے کہ ہوسکتا ہے اس نے تمہاری مار کھانے کے بعد اس کا اقرار کرلیا ہو۔
حواشی
(١) في سنن البيهقي (٨/ ٢٦٥): (عن ثعلبة الشامي وكان طارق استخلفه على المدينة).
(٢) في [ط]: (فأقرت).
(٣) في [ب، جـ، م]: (يسله).
(٤) مجهول؛ لجهالة طارق الشامي.