حدیث نمبر: 30179
٣٠١٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عمران بن (حدير) (١) عن أبي مجلز قال: المحنة في (الظنة) (٢) أن (يوعده) (٣) و (يجلب) (٤) عليه، وإن ضربته سوطًا واحدًا فليس اعترافه بشيء.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حدیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مجلز نے ارشاد فرمایا : تہمت اور آدمی پر عیب لگانے مں ٢ آزمائش یہ ہے کہ یوں کہے : تو نے اسے ڈرایا ہوگا اور اسے نقصان پہنچایا ہوگا اور اگر میں نے اسے ایک کوڑا بھی مارا تو اس کا اعتراف قابل قبول نہیں ہوگا۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ك، م]: (جدير)، وفي [هـ]: (حرير).
(٢) في [ب، جـ، ك]: (الصنة)، وفي [أ، ط، هـ]: (الصفة)، وفي [ز]: (الفتنة).
(٣) في [س، ط]: (توعده)، وفي [أ، هـ]: (يوعد).
(٤) في [أ، ط]: (يجلب).