مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
الرجل يزني مملوكه، (يقام) عليه الحد أم لا؟ باب: اس آدمی کے بیان میں جس کا غلام زنا کرے: اس پر حد قائم کی جائے گی یا نہیں؟
٣٠١٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن عبد الأعلى عن أبي جميلة عن علي قال: أخبر النبي ﷺ بأمة لهم فجرت، فأرسلني إليها فقال: "اذهب، فأقم عليها الحد"، فانطلقت فوجدتها لم تجف من دمائها، فقال. "أفرغتَ؟ " فقلت: وجدتها لم تجف من دمائها، فقال: "إذا جفت من دمائها (فاجلدها) (١) "، ثم قال رسول اللَّه ﷺ: " (و) (٢) أقيموا الحدود على ما ملكت أيمانكم" (٣).حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں کی ایک باندی کے متعلق خبر دی گئی کہ اس نے گناہ کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کی طرف بھیجا اور فرمایا : تم جا کر اس پر حد قائم کرو پس میں گیا تو میں نے اس کو اس حال میں پایا کہ اس کا خون خشک نہیں ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم فارغ ہوگئے ؟ میں نے عرض کی کہ میں نے اسے اس حال میں پایا کہ اس کا خون خشک نہیں ہوا تھا ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب اس کا خون خشک ہوجائے تو تم اسے کوڑے مارنا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے ماتحتوں پر حد قائم کرو۔