حدیث نمبر: 30052
٣٠٠٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن أبي مالك الأشجعي قال: حدثني أهل (هرمز) (١) والحي عن هرمز أنه أتى عليًا فقال: إني أصبت حدًا، (فقال) (٢): تب إلى اللَّه واستتر، قال: يا أمير المؤمنين طهرني، قال: (قم) (٣) يا قنبر فاضربه الحد، (وليكن هو يعد) (٤) لنفسه، فإذا نهاك فانته، وكان مملوكًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو مالک اشجعی فرماتے ہیں کہ اہل ھرمز اور حی بیان کرتے ہیں کہ ھرمز حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا : بیشک میں نے حد کو پا لیا ہے آپ نے فرمایا : اللہ سے توبہ کرو اور اور اپنے گناہ کو چھپاؤ اس نے کہا اے امیرالمومنین ! آپ مجھے پاک کردیں۔ آپ نے فرمایا : اے قنبر ! کھڑے ہوجاؤ اور اس پر حد لگاؤ اور یہ خود ہی اپنی سزا شمار کرے گا پس جب یہ تمہیں روک دے تو رک جانا اور ھرمز ایک غلام تھا۔

حواشی
(١) في [ط]: (هرمن).
(٢) في [جـ، ك، م]: (قال).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [ط، هـ]: (ولكن هو يحد).
(٥) مجهول؛ لجهالة أهل هرمز.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30052
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30052، ترقيم محمد عوامة 28767)