مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
في السارق تقطع يده؛ يتبع بالسرقة باب: اس چور کے بیان میں جس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ہو کیا چوری شدہ چیز بھی واپس لی جائے گی؟
حدیث نمبر: 30000
٣٠٠٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن الشيباني عن الشعبي (أنه) (١) قال في السارق: إن وجدت السرقة عنده (بعينها) (٢) أخذت منه وقطعت يده، وإن كان قد استهلكها قطعت يده ولا ضمان عليه (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیبانی فرماتے ہیں کہ بیشک امام شعبی نے چور کے بارے میں ارشاد فرمایا : اگر چوری شدہ چیز بعینہ اس کے پاس پائی گئی تو وہ اس سے لے لی جائے گی اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور اگر اس نے وہ چیز خرچ کردی تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور اس پر کسی قسم کا ضمان نہیں ہوگا۔
حواشی
(١) سقط من [ب].
(٢) في [أ، ب، جـ، د، ط، م]: (بعينه).
(٣) في [هـ]: زيادة: (وقال حماد: يتبع بها).