مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحدود
ما جاء في التشفع (للسارق) باب: ان روایات کا بیان جو چور کی سفارش کرنے کے بارے میں منقول ہیں
حدیث نمبر: 29933
٢٩٩٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن عبد اللَّه بن عروة عن الفرافصة الحنفي قال: مروا على (الزبير بسارق فتشفع) (١) له (قالوا) (٢): (أتشفع) (٣) (لسارق)؟ (٤) فقال: نعم، ما لم يؤت به إلى الإمام، فإذا أتي به إلى ⦗٣٣٢⦘ الإمام فلا عفى اللَّه عنه (إن عفى عنه) (٥) (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت فرافصہ حنفی فرماتے ہیں کہ لوگ ایک چور کو لے کر حضرت زبیر کے پاس سے گزرے تو آپ نے اس کی سفارش فرمائی اس پر لوگ کہنے لگے : کیا آپ ایک چور کی سفارش کررہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! جب تک اسے امام کے پاس نہ لے جایا گیا ہو جب اسے امام کے پاس لے گئے تو اللہ بھی اسے معاف نہیں کرے گا اگر امام نے اسے معاف کردیا۔
حواشی
(١) في [جـ]: بياض.
(٢) في [جـ، ك، م]: (فقالو).
(٣) في [ط، م]: (تشفع).
(٤) في [ط]: (بسارق).
(٥) سقط من [جـ].