مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الديات
قوله (تعالى): ﴿وإن كان من قوم بينكم وبينهم ميثاق﴾ باب: اللہ رب العزت کے قول: وان کان من قوم بینکم وبینھم میثاق کی تفسیر کا بیان
٢٩٨٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم في قوله (تعالى) (١): ﴿وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ﴾ وإذا قُتل المسلم فهذا له ولورثته المسلمين، ﴿فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ﴾ الرجل (المسلم) (٢) يقتل وقومه مشركون، ليس بينهم وبين رسول اللَّه ﷺ عهد (فعليه تحرير رقبة ⦗٣٠٧⦘ مؤمنة) وأن قُتل (مسلمُ) (٣) من قوم مشركين بينهم وبين رسول اللَّه ﷺ عهد [فعليه تحرير رقبة مؤمنة، ويؤدي ديته إلى قومه الذين بينهم وبين رسول اللَّه ﷺ عهد] (٤). فيكون ميراثه للمسلمين، ويكون عقله (لقومه المشركين) (٥) الذين بينهم وبين رسول اللَّه ﷺ عهد، فيرث المسلمون ميراثه، ويكون عقله (لقومه) (٦)؛ لأنهم يعقلون عنه.حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت کے قول : اور جس نے قتل کردیا کسی مومن کو غلطی سے تو آزاد کرے ایک مومن غلام اور مقتول بہا اد کیا جائے مقتول کے وارثوں کو اس آیت کے بارے میں ابراہیم نے فرمایا : جب مسلمان کو قتل کردیا جائے تو یہ حکم اس کے لیے اور اس کے مسلمان ورثاء کے لیے ہے اور آیت اور پھر مقتول اگر ایسی قوم میں سے ہو جو قوم تمہاری دشمن اور وہ مومن ہو۔ اس آیت کے بارے میں آپ نے فرمایا : وہ مسلمان آدمی جو قتل کردے اس حال میں کہ اس کی قوم مشرک ہو ان کے اور رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہو تو اس پر ایک مسلمان غلام آزاد کرنا لازم ہے اور اگر اس نے کسی مسلمان کو قتل کردیا جس کا تعلق مشرکوں کی قوم سے تھا اور اس قوم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان معاہدہ تھا تو اس پر ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا ضروری ہے اور اس کی دیت ادا کی جائے گی اس قوم کو جس کے درمیان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان معاہدہ تھا اور اس کی وراثت مسلمانوں کے لیے ہوگی۔ اور اس کی دیت اس مشرک قوم کے لیے ہوگی جس کے درمیان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان معاہدہ تھا۔ پس مسلمان اس کی وراثت کے وارث ہوں گے اور اس کی دیت اس کی قوم کے لیے ہوگی اس لیے کہ وہ ہی اس کی طرف سے دیت ادا کریں گے۔