مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في المرأة تمر عن يمين الرجل وعن يساره وهو يصلي باب: اگر عورت کسی نمازی کے دائیں یا بائیں جانب سے گذرے تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 2983
٢٩٨٣ - حدثنا غندر عن عثمان بن غياث قال: سألت الحسن عن المرأة تمر يحنب الرجل وهو يصلي فقال: لا بأس (إلا) (١) أن (تعن) (٢) بين يديه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن غیاث فرماتے ہیں کہ میں نے حسن سے سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی عورت اس کے پاس سے گذر جائے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا اگر اس کے آگے سے نہ گذرے تو کوئی حرج نہیں۔
حواشی
(١) تكرر في [أ]: (ما بين القوسين).
(٢) في [أ، جـ، ك]: (تغن)، وفي [ب]: (تقف)، وفي [هـ]: (تقف)، وفي [ل]: (تقرب).