حدیث نمبر: 29825
٢٩٨٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن أبي خالد عن عامر قال: جاء رجل إلى شريح] (١) فقال: إن شاة هذا قطعت غزلي، فقال: ليلًا أو نهارا؟ فإن كان نهارًا فقد برئ، وإن كان ليلًا فقد ضمن، وقرأ: ﴿إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ وقال: إنما كان النفش بالليل.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عامر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت شریح کے پاس آیا اور کہنے لگا اس آدمی کی بکری نے میرا کاتا ہوا کپڑا کاٹ دیا آپ نے اس سے پوچھا : دن میں یا رات میں ؟ اگر دن ہواتو شخص بری ہوگا اور اگر رات تھی تو تحقیق وہ شخص ضامن ہوگا اور آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ترجمہ :۔ جب جا گھسیں بکریاں اس میں لوگوں کی اور فرمایا : بیشک بکریوں کا گھسنا رات میں ہو تو ضمان ہوتا ہے۔

حواشی
(١) سقط من [ط].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29825
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29825، ترقيم محمد عوامة 28557)