مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الديات
إن المسلمين تتكافأ دماؤهم باب: مسلمانوں کے خون آپس میں برابر و یکساں ہیں
٢٩٨١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن سفيان بن حسين عن ابن أشوع عن الشعبي قال: كان بين حيين من العرب قتال، فقتل من هؤلاء و (١) من هؤلاء، فقال: (أحد) (٢) الحيين: لا نرضى حتى يقتل بالمرأة الرجل، وبالرجل الرجلين، قال: فأبى عليهم الآخرون، فارتفعوا إلى النبي ﷺ، قال: فقال النبي ﷺ (٣): "القتل (بواء) (٤) " أي سواء، قال: فاصطلح القوم بينهم على الديات، قال: فحسبوا للرجل دية الرجل، وللمرأة دية المرأة، وللعبد دية العبد فقط (لأحد) (٥) الحيين على الآخرين، قال: فهو قوله: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ ⦗٢٩٩⦘ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى﴾ (٦) [البقرة: ١٧٨].حضرت ابن اشوع فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : عرب کے دو قبیلوں کے درمیان لڑائی تھی۔ سو اس قبیلہ کے کچھ افراد قتل ہوئے اور اس قبیلہ کے بھی کچھ افراد قتل ہوگئے۔ ان قبیلوں میں سے ایک نے کہا : ہم راضی نہیں ہوں گے یہاں تک کہ ہم عو رت کے بدلے مں ف آدمی کو اور آدمی کے بدلے میں دو آدمیوں کو قتل کریں : دوسرے قبیلے والوں نے اس بات کا انکار کردیا، پھر انہوں نے یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قتل کا معاملہ برا بری کا ہے۔ سو لوگوں نے اپنے درمیان دیتوں کی اصطلاح قائم کرلی۔ انہوں نے آدی کے لیے آدمی کی دیت عورت کے لیے عورت کی دیت اور غلام کے لیے غلام کی دیت کو کافی سمجھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں قبیلوں میں سے ایک کے لیے دوسرے پر یوں فیصلہ فرمایا : راوی کہتے ہیں وہ فیصلہ اللہ رب العزت کا یہ قول ہے : ترجمہ :۔ اے ایمان والو ! فرض کردیا گیا ہے تم پر مقتولوں کا قصاص لینا قتل کیا جائے آزاد کو آزاد کے بدلے میں ، اور غلام کو غلام کے بدلے میں اور عورت کو عورت کے بدلے میں۔ حضرت سفیان بن حسن نے فرمایا : آیت : سو وہ شخص جس کو معاف کردیا جائے اس کے بھائی کی طرف سے قصاص میں سے کچھ۔ آپ فرمایا : مراد یہ ہے کہ جس نے اپنے بھائی پر کچھ اس مں فضل کردیا تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو معروف طریقہ سے ادائیگی کرے۔ اور طالب احسن انداز میں اس کی پیروی کرے اللہ رب العزت کے قول { عَذَابٌ أَلِیمٌ} تک۔