مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الديات
إن المسلمين تتكافأ دماؤهم باب: مسلمانوں کے خون آپس میں برابر و یکساں ہیں
٢٩٨١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن علي بن صالح عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: (كانت) (١) قريظة والنضير، ⦗٢٩٧⦘ و (كانت) (٢) النضير أشرف من قريظة [(فكان) (٣) إذا قتل رجل من قريظة] (٤) رجلًا من النضير قُتل به، وإن قَتل رجل من النضير رجلًا من قريظة (وداه) (٥) مئة وسق من تمر، فلما بعث النبي ﷺ قتل رجل من النضير (رجلًا) (٦) من قريظة، قال: ادفعوه إلينا نقتله، فقالوا: بيننا وبينكم النبي ﷺ فأتوه فنزلت: ﴿وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ﴾ [المائدة: ٤٢]، فالقسط: النفس بالنفس، ثم نزلت: ﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ﴾ (٧) [المائدة: ٥٠].حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : قریظہ اور نضیر دو قبیلے تھے اور قبیلہ نضیر قریظہ والوں سے زیادہ معزز تھے۔ پس جب قبیلہ قریظہ کا کوئی آدمی قبیلہ نضیر کے کسی آدمی کو قتل کردیتا تو بدلہ میں اسے بھی قتل کردیا جاتا۔ اور اگر قبلہر نضیر کا کوئی آدمی قبیلہ قریظہ کے کسی آدمی کو قتل کردیتا تو وہ اسے سو و سق کھجور دیت میں ادا کردیتا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ہوئی تو قبیلہ نضیر کے ایک آدمی نے قریظہ کے ایک آدمی کو قتل کردیا، انہوں نے کہا تم اس قاتل کو ہمارے حوالہ کردو تا کہ ہم اسے قتل کردیں، ان لوگوں نے جواب دیا۔ ہمارے اور تمہارے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فیصلہ کریں گے۔ پس وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آگئے۔ پس یہ آیت نازل ہوئی ترجمہ :۔ اور اگر آپ حکم بنیں تو ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کریں۔ قسط سے مراد۔ جان کے بدلے جان ہے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی ترجمہ :۔ تو کیا پھر یہ لوگ زمانۂ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں۔