حدیث نمبر: 29721
٢٩٧٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مروان بن معاوية عن الربيع بن النعمان عن أمه أن امرأة من بني ليث يقال لها أم هارون: بينما هي جالسة تقطع (من) (١) لحم أضحيتها، إذ شد كلب في الدار على ذلك اللحم، فرمته بالسكين فأخطأته واعترض ابن لها فوقعت السكين في بطنه (مرتزة) (٢) فمات، فوداه علي من بيت المال (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ربیع بن نعمان اپنی والدہ سے نقل کرتے ہیں کہ قبیلہ بنو لیث کی ایک عورت جس کا نام ام ہارون تھا : اس درمیان کہ وہ بیٹھ کر اپنی قربانی کے جانور کا گوشت کاٹ رہی تھی کہ اچانک ایک کتے نے گھر میں اس گوشت پر دھاوا بول دیا تو اس عورت نے اس پر چھری پھینکی تو اس کا نشانہ خطا ہوگیا اور اس کا بیٹا جو وہاں لیٹا ہوا تھا وہ اس کے پیٹ میں گھس گئی اور وہ مرگیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کی دیت بیت المال سے ادا کی۔

حواشی
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [هـ]: (من يدها) وفي [أ، ط]: (يده).
(٣) مجهول؛ لجهالة أهم الربيع.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29721
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29721، ترقيم محمد عوامة 28465)