حدیث نمبر: 29711
٢٩٧١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي عاصم عن الشعبي قال: كان رجلان أخوان من الأنصار يقال لأحدهما: أشعث، فغزا في جيش من جيوش المسلمين، قال: فقالت امرأة أخيه لأخيه: هل لك في امرأة أخيك معها رجل يحدثها؟ فصعد فأشرف عليه وهو معها على فراشها، وهي تنتف له دجاجة: وهو يقول: ⦗٢٧٠⦘ وأشعث غرة الإسلامُ منى … خلوت بعرسه ليل التمام أبيت على حشاياها ويمسي … على دهماء لاحقة الحزام كأن مواضع الربلات منها … (فئام) (١) قد جمعن إلى (فئامي) (٢)
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : دو انصاری آدمی آپس میں بھائی تھے ان میں سے ایک کا نام اشعث تھا وہ مسلمانوں کے لشکروں میں سے کسی لشکر میں جہاد کرنے گیا۔ تو اس کے بھائی کی بیوی اس کے بھائی کو کہنے لگی : تمہارے بھائی کی بیوی کے ساتھ کوئی آدمی ہے کیا تم اس کا کچھ کرسکتے ہو ؟ پس پیچھے رہنے والا آدمی چھت پر چڑھا اور اس نے اپنے بھائی کے گھر میں جھانکا تو اس نے ایک آدمی کو اپنے بھائی کی بیوی کے ساتھ بسترپر دیکھا اور وہ عورت اس کے لیے مرغی کی کھال اتار رہی تھی اور وہ شخص یہ شعر پڑھ رہا تھا۔ ترجمہ :” اشعث کو اسلام نے میرے بارے میں دھوکہ دیا۔ میں نے اس کی دلہن کے ساتھ رات گزاری۔ میں اس کی بیوی کے ساتھ لپٹ کر رات گزار رہا تھا جبکہ وہ موت کی مصیبت میں شام کر رہا تھا۔ اس کی بیوی کے جسم کا گوشت ایسے ہے جیسے پالکی کے گدے ایک دوسرے کے اوپر ڈالے گئے ہوں۔ “ یہ سن کر وہ بھائی اس پر کود پڑا اور اس نے تلوار سے وار کر کے قتل کردیا پھر اس کو پھینک دیا اس مقتول نے مدینہ میں صبح کی تو حضرت عمر نے فرمایا : میں اللہ کی قسم دیتا ہوں اس آدمی کو جس کے پاس اس کے بارے میں کچھ علم ہو مگر یہ کہ وہ کھڑا ہوجائے وہ شخص کھڑا اور اس نے واقعہ کی آپ کو خبر دی اس پر آپ نے فرمایا : یہ شخص برباد اور ہلاک ہوگیا۔

حواشی
(١) في [أ، ط، هـ]: (تمام).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (تمامي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29711
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29711، ترقيم محمد عوامة 28460)