مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الديات
القوم يدفع بعضهم بعضا في البئر أو الماء باب: ان لوگوں کا بیان جن میں سے بعض نے بعض کو کنویں یا پانی میں دھکا دیا
٢٩٧٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن حنش بن المعتمر قال: حفرت زبية باليمين للأسد فوقع فيها الأسد، فأصبح الناس يتدافعون على رأس البئر، فوقع فيها رجل فتعلق بآخر، وتعلق الآخر (بآخر) (١)، فهوى فيها أربعة فهلكوا فيها جميعًا، فلم يدر الناس كيف (يصنعون) (٢)؟ فجاء علي فقال: إن شئتم قضيت بينكم بقضاء يكون جائزًا بينكم حتى (تأتوا) (٣) النبي ﷺ (٤) قال: فإني أجعل الدية على من حضر رأس البئر، فجعل للأول الذي هو في البئر ربع ⦗٢٦٧⦘ الدية، وللثاني ثلث الدية، وللثالث نصف الدية، وللرابع كاملة، (قال) (٥): فتراضوا على ذلك حتى أتوا النبي ﷺ فأخبروه بقضاء علي فأجاز القضاء (٦).حضرت سماک فرماتے ہیں کہ حضرت حنش بن معتمر نے فرمایا : یمن میں شیر کے لیے ایک گڑھا کھودا گیا پس شیر اس میں گرگیا اور لوگ کنویں کے کنارے ایک دو سرے کو دھکم پیل کر رہے تھے کہ اچانک ایک آدمی اس میں گرنے لگا تو اس نے دوسرے کو پکڑ لیا اور دوسرے نے تیسرے کو ایسے کل چار افراد اس گھڑے میں گرگئے اور سب کے سب مرگئے۔ لوگوں کو سمجھ نہیں تھی کہ کہ وہ اس معاملہ کا کیا کریں ؟ اتنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا : اگر تم چاہوتو میں تمہارے درمیان ایک فیصلہ کروں جو تمہارے درمیان اس صورت میں جائز ہو کہ تم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور فرمایا کہ بیشک میں دیت کا بار ڈالوں گا ان لوگوں پر جو کنویں کے کنارے پر موجود تھے۔ اور آپ نے اس پہلے شخص کے لیے جو کنویں میں گرا تھا دیت کا چوتھائی حصہ لازم قراردیا اور دوسرے شخص کے لیے تہائی دیت اور تیسرے کے لیے نصف دیت اور چوتھے کے لیے مکمل دیت لازم قرار دی پس وہ سب لوگ اس بات پر راضی ہوگئے یہاں تک کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کے بارے میں بتلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس فیصلہ کو نافذ کردیا۔