حدیث نمبر: 29694
٢٩٦٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عبد العزيز بن حصين عن يحيى ابن يحيى الغساني قال: أحرق رجل (تبنا) (١) في (قراح) (٢) له، فخرجت شرارة من نار حتى أحرقت شيئًا لجاره قال: فكتبت فيه إلى عمر بن عبد العزيز فكتب إليّ أن رسول اللَّه ﷺ قال: "العجماء (٣) جبار"، وأرى أن النار جبار (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبدالعزیز بن حصین فرماتے ہیں کہ حضرت یحییٰ بن یحییٰ غسانی نے ارشاد فرمایا کہ ایک آدمی نے اپنی کھلی زمین میں بھوسا جلا یا پس آگ کا شعلہ نکلا یہاں تک کہ اسنے پڑوسی کی کوئی چیز جلا دی آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اس بارے میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کو خط لکھا تو آپ نے مجھے جواب لکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چوپایہ کے زخم پر کوئی تاوان نہیں اور میری رائے یہ ہے کہ آگ کے نقصان پر بھی کوئی تاوان نہیں ہوگا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ط، ك، م]: (بيتًا)، وفي [هـ]: (تبنًا)
(٢) في [ط، هـ]: (فراح).
(٣) في [هـ]: زيادة (جراحها)، زادها من المحلى ١١/ ٢٠.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29694
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عمر بن عبد العزيز ليس صحابيًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29694، ترقيم محمد عوامة 28446)