٢٩٦٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن (حجاج) (١) بن أبي عثمان قال: حدثني أبو رجاء مولى أبي قلابة عن أبي قلابة أن عمر بن عبد العزيز أبرز سريره يوما للناس ثم أذن لهم فدخلوا عليه، فقال: ما (تقولون) (٢) في القسامة؟ (فأضب) (٣) الناس فقالوا: نقول القسامة القود بها حق، وقد أقادت بها الحلفاء، فقال: ما تقول يا أبا قلابة؟ ونصبني للناس، قلت: يا أمير المؤمنين عندك أشراف العرب ورؤوس الأجناد، أرأيت لو أن خمسين منهم شهدوا على رجل بحمص أنه قد سرق ولم يروه: أكنت تقطعه؟ قال: لا.حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے ایک دن لوگوں کے سامنے اپنا تخت ظاہر کیا پھر آپ نے ان سب کو اجازت دی اور وہ آپ کے پاس آگئے آپٖ نے پوچھا ! تم لوگ قسامۃ کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ لوگ غور و فکر کرنے لگے اور کہنے لگے قسامت کے ذریعہ قصاص لینا برحق ہے اور تحقیق خلفاء نے اس کے ذریعہ قصاص لیا ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا اے ابو قلابہ ! تم کیا کہتے ہو ؟ اور انہوں نے ہی مجھے لوگوں کا مشورہ دیا تھا۔ میں نے کہا اے امیرالمومنین ! آپ کے پاس عرب کے معزز لوگ اور لشکروں کے سردار موجود ہیں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر ان میں سے پچاس آدمی حمص کے ایک آدمی کے خلاف گواہی دیں کہ اس نے چوری کی ہے حالانکہ انہوں نے اس کو نہیں دیکھاتو کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں میں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو کبھی قتل نہیں کیا مگر ان تین باتوں میں سے ایک کی وجہ سے، ایک وہ آدمی جو اپنے نفس کے گناہ کی وجہ سے قتل کیا گیا یا وہ آدمی تو جو اپنے محصن ہونے کے باوجود زنا کرے یا وہ آدمی جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کرے اور اسلام سے مرتد ہوجائے۔