مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الديات
الدم كم يجوز فيه من الشهادة؟ باب: خون کا بیان: اس میں کتنے گواہ ہونے چاہئیں؟
حدیث نمبر: 29664
٢٩٦٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا المسعودي عن القاسم قال: انطلق رجلان من أهل الكوفة إلى عمر بن الخطاب فوجداه قد صدر عن البيت (فقالا) (١): يا أمير المؤمنين إن ابن عم لنا قتل ونحن (إليه شرع) (٢) سواء في الدم، وهو ساكت عنهما (فقال) (٣): شاهدان (ذوا) (٤) عدل تجيئان (به) (٥) على من قتله فنقيدكم منه (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسعودی فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم نے ارشاد فرمایا : دو آدمی کوفہ سے حضرت عمر بن خطاب کے پاس آئے ان دونوں نے آپ کو بیت اللہ سے جاتے ہوئے پایا۔ وہ دونوں کہنے لگے، اے امیرالمومنین ! ہمارے چچا کے بیٹے کو قتل کردیا گیا ہے اس حال میں کہ ہم اس کے خون میں بالکل برابر ہیں اور آپ ان دونوں سے خاموش رہے اور فرمایا : تم دونوں دو عادل گواہ لاؤ اس شخص کے خلاف جس نے اسے قتل کیا پس میں تمہیں اس سے قصاص دلوادوں گا۔
حواشی
(١) في [ط] (فقال).
(٢) سقط من: [ص]، وفي [جـ]: (شرع ونحن سواء).
(٣) في [ط، هـ]: (قال).
(٤) في [أ، ب، ط، ك]: (ذو).
(٥) في [هـ]: (بهما).
(٦) منقطع؛ القاسم لم يدرك عمر.