حدیث نمبر: 29640
٢٩٦٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن في القتيل ⦗٢٥٢⦘ (يوجد) (١) غيلة قال: يقسم من المدعى عليهم (خمسين) (٢) يمينًا: ما قتلنا ولا علمنا قاتلًا، فإن حلفوا فقد برأوا، وإن نكلوا أقسم من المدعين خمسون: إن دمنا قبلكم ثم يودى (٣).مولانا محمد اویس سرور
یونس فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے دھوکہ سے قتل ہونے والے مقتول کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا کہ مدعی علیھم میں سے پچاس آدمی یوں پچاس قسمیں اٹھائیں گے کہ نہ ہم نے قتل کیا ہے اور نہ ہمیں قاتل معلوم ہے پس اگر انہوں نے قسم اٹھالی تو وہ بری ہوجائں گے اور اگر انہوں نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا تو مدعیوں میں سے پچاس لوگ قسم اٹھائیں گے کہ ہمارا خون تمہاری طرف سے ہوا ہے پھر دیت ادا کی جائے گی۔
حواشی
(١) في [م]: (يؤخذ).
(٢) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٣) في [هـ]: (يودوا).