٢٩٦٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر (أن) (١) الزهري سئل عن قتيل وجد في دار رجل فقال رب الدار: إنه طرقني ليسرقني فقتلته، وقال أقول: القتيل أنه دعاه إلى بيته فقتله، فقال: أن أقسم من أهل القتيل خمسون أنه دعاه فقتله (أقيد به) (٢)، وإن نكلوا غرموا الدية.حضرت معمر فرماتے ہیں کہ امام زہری سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا گیا تھا۔ اور گھر کے مالک نے یوں کہا کہ بیشک یہ رات کو میرے پاس آیا تاکہ میرا مال چوری کرلے پس میں نے اسے قتل کردیا اور مقتول کے گھر والوں نے کہا کہ بیشک اس شخص نے ہی اسے اپنے گھر بلایا تھا اور اسے قتل کردیا اس پر آپ نے فرمایا : اگر مقتول کے اہلخانہ میں سے پچاس افراد اس بات پر قسم اٹھا لیں کہ گھر کے مالک نے اسے بلا کر قتل کردیا ہے تو میں اس سے قصاص لوں گا اور اگر یہ لوگ قسم اٹھانے سے انکار کردیں تو یہ دیت کے ذمہ دار ہوں گے۔ امام زہری نے فرمایا : حضرت ابن عفان نے بھی بنو باقرہ کے مقتول کے بارے میں یہی فیصلہ فرمایا تھا جب اس کے اولیاء نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا تو حضرت عثمان نے انہیں دیت کی ادائیگی کا ذمہ دار بنادیا۔