حدیث نمبر: 29634
٢٩٦٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي إسحاق أن قتيلًا وجد في بني سلول فجاء الأولياء فابرأوا بني (سلول) (١) وادعوا على حي آخر، وأتوا شريحا ببني (سلول) (٢) وسألهم البينة على المدعى (عليهم) (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ حضرت ابو اسحاق نے ارشاد فرمایا : ایک مقتول قبیلہ بنو سلول کے محلہ میں پایا گیا اس کے سرپرست آئے اور انہوں نے بنو سلول والوں کو سبکدوش کردیا اور دوسرے محلہ والوں کے خلاف دعوی کردیا وہ قبیلہ والے بنو سلول کو لیکر حضرت شریح کے پاس آئے تو آپ نے ان سے مدعی علیھم کے خلاف گواہی کے متعلق سوال کیا۔

حواشی
(١) في [ط]: (سليل).
(٢) في [ط]: (سليل).
(٣) في [جـ]: (عليه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29634
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29634، ترقيم محمد عوامة 28388)